4 مئی، 2026، 4:30 PM

آبنائے ہرمز سابقہ صورتحال میں واپس نہیں آئے گی؛ جوہری معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، عراقچی

آبنائے ہرمز سابقہ صورتحال میں واپس نہیں آئے گی؛ جوہری معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے، عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے نیا طریقۂ کار تیار کیا جارہا ہے اور دشمن جہازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ماضی کی حالت پر واپس نہیں جائے گی جبکہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں جوہری امور زیر غور کو نہیں لایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق، کمیشن برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے اراکین سے ملاقات میں وزیر خارجہ نے 40 روزہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد سفارتی محاذ پر کیے گئے اقدامات، حکمت عملی اور مستقبل کے منصوبوں پر تفصیلی رپورٹ پیش کی اور واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پہلے جیسی نہیں رہے گی اور ایران اس اہم آبی گزرگاہ کے انتظام کے لیے ایک نیا میکانزم تشکیل دے رہا ہے۔

عراقچی نے کہا کہ حالیہ جنگ کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران کی عالمی حیثیت پہلے کے مقابلے میں مضبوط ہوئی ہے اور دنیا کا ایران کے بارے میں نقطہ نظر تبدیل ہوچکا ہے۔ اگرچہ جنگ میں کچھ نقصانات ہوئے، تاہم شہداء خصوصاً “شہید رہبر” اور دیگر قربانیوں کی بدولت اس جنگ کے کئی اہم ثمرات سامنے آئے ہیں، جن کی قدر کرنا اور محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دشمن یہ سمجھ رہا تھا کہ ایران کمزور ہو چکا ہے، لیکن جنگ کے دوران دنیا نے دیکھا کہ ایران نے دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کے مقابلے میں اور دو ایٹمی طاقتوں کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام بنا دیا۔ دشمن نے ایران کو جھکانے کے لیے ہر طریقہ آزمایا، جن میں انتشار پھیلانا، بغاوت، فوجی حملہ، علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی اور دیگر اقدامات شامل تھے، مگر وہ ناکام رہا۔ 

انہوں نے کہا کہ کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایران جنگ کو خطے میں امریکی اہداف تک پھیلا سکے گا اور آبنائے ہرمز بند کر سکے گا، لیکن ایران نے جنگ کے دوران عملی طور پر یہ اقدام طاقت کے ساتھ انجام دیا۔

عراقچی نے کہا کہ جنگ کے بعد ایران کے بارے میں مختلف ممالک کے لہجے میں واضح تبدیلی آئی ہے اور خطے کا سیکورٹی نظریہ بھی بدل گیا ہے۔ پہلے خطے کی سلامتی امریکی اڈوں پر قائم سمجھی جاتی تھی، لیکن اب صورتحال تبدیل ہوچکی ہے کیونکہ یہ اڈے امن و سلامتی کا ذریعہ بننے کے بجائے عدم استحکام اور خطرے کا سبب بن گئے ہیں۔ جن ممالک نے امریکی فوجی اڈوں کی میزبانی نہیں کی، وہ اس جنگ میں محفوظ رہے، جبکہ جن ممالک نے امریکی اڈے رکھے، وہ محفوظ نہ رہ سکے۔ امریکہ خطے میں صرف صہیونی حکومت کے تحفظ کے لیے موجود ہے اور اس کی موجودگی خطے کے لیے عدم تحفظ کا باعث ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ اس جنگ اور ایرانی عوام و مسلح افواج کی مزاحمت کے نتیجے میں اسلامی جمہوری ایران کی سلامتی کئی برسوں کے لیے یقینی ہوگئی ہے اور ایران نے ایسا مقام حاصل کر لیا ہے کہ طویل عرصے تک کوئی بھی ملک ایران پر حملے کی جرأت نہیں کر سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمت ہماری طاقت کا بنیادی راز ہے اور “شہید رہبر” کے خون کی برکت سے ایران خطے کا مرکزی کھلاڑی اور عالمی سطح پر مؤثر کردار بن چکا ہے۔ وزارت خارجہ کی ذمہ داری ہے کہ جنگ کے نتائج کو محفوظ اور مستحکم کرے۔

عراقچی نے کہا کہ سفارتی محاذ اور دفاعی شعبے کے درمیان مکمل ہم آہنگی موجود ہے اور عوام کی سڑکوں پر موجودگی نے اس اتحاد کو مزید مضبوط بنایا ہے۔ یہ اتحاد کم مثال ہے اور تمام حکومتی ذمہ داران عملی طور پر متحد ہیں اور رہبر معظم انقلاب کی ہدایات کے مطابق عمل کر رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے اجلاس میں دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ فی الحال دشمن کے ساتھ جوہری شعبے میں کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور ایران ہر ممکن منظرنامے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

عراقچی نے اعلان کیا کہ آبنائے ہرمز کے انتظام کے لیے ایک نیا طریقۂ کار تیار کیا جا رہا ہے اور آبنائے ہرمز دوبارہ سابقہ حالات میں واپس نہیں آئے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کے بحری جہازوں کو اس علاقے سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس موقع پر کمیشن کے اراکین نے بھی اس بات پر زور دیا کہ دشمن کو کمزوری کا کوئی پیغام نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے جنگ کے دوران سفارت خانوں اور ایرانی نمائندگیوں کی سرگرمیوں اور وزارت خارجہ کی عوامی سفارت کاری کو سراہا۔

اس اجلاس میں قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران یہ اجازت نہیں دے گا کہ جنگ، مذاکرات، جنگ بندی اور دوبارہ جنگ کا سلسلہ دہرایا جائے۔ آبنائے ہرمز میں ایران کے حق حاکمیت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرایا جانا چاہیے، اور مذاکرات میں نقصانات اور ہرجانے کے حصول کے مسئلے پر بھی سنجیدہ توجہ دی جائے۔

News ID 1939128

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha